اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نےکہا ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات طویل ہونے کے باوجود پہلی والی صورت حال کی جانب واپس نہيں لوٹناچاہتے۔
آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے ایک بار پھر زوردے کر کہا کہ ایران ایٹم بم بنانے کی کوشش میں نہيں ہے اور اس موضوع کو اس نے عراق کے ذریعے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران ثابت کردکھایا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسلام اس بات کی اجازت نہيں دیتا ہے کہ علم کا فائدہ اٹھا کر عام تباہی پھیلانے والے ہتھیار اور ایٹم بم بنائے جائيں ۔
آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ایران، بین الاقوامی قوانین کا پابند ہے تاکید کے ساتھ کہا کہ دوسرے ملکوں کی طرح ایران بھی ایٹمی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کو اپنا قانونی حق سمجھتا ہے۔
تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ نے علاقے کے سیاسی ماحول اور دہشتگردی میں توسیع کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغرب نے جس طرح افغانستان سے سابق سویت یونین کو باہر نکالنے کے لئے طالبان کو بنایا اسی طرح عراق اور شام میں داعش دہشتگرد گروہ کو جنم دیا۔آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ جولوگ عراق اور شام میں دہشتگردوں کی مدد کررہے ہيں اب وہی لوگ انھیں دہشتگردوں سے مقابلہ کررہے ہيں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲